نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کاروباری برادری نے تجارتی ایکٹ میں کی گئی حکومتی ترامیم کو مسترد کر دیا

کراچی 21فروری (پی پی آئی)کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے تجارتی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر حنیف لاکھانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور دیگر تمام تجارتی باڈیز کی دو سال کی مدت کو برقرار رکھا جائے۔ایف پی سی سی آئی کے ایک بیان کے مطابق، حنیف لاکھانی نے کہا کہ ملک بھر کی تجارتی انجمنوں بشمول چیمبرز آف کامرس، درآمدی و برآمدی ایسوسی ایشنز، اسمال اور ویمن چیمبرز آف کامرس نے متفقہ طور پر تجارتی ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منتخب باڈیز کی مدت باقاعدہ ایکٹ کی منظوری سے دو سال کی گئی تھی اور اس کی منظوری سینٹ آف پاکستان نے بھی دی تھی۔حنیف لاکھانی نے مزید کہا کہ اب اس مد ت کو کم کر کے دوبارہ ایک سال کر دیا گیا ہے، جو کاروباری برادری کے مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نیحکومت پر زور دیا کہ چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کی مدت دو سال ہونی چاہیے، تاکہ تاجروں کی جانب سے تفویض کردہ مینڈیٹ کو پورا کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تجارت کے اداروں میں انتخابات کرانا آسان نہیں ہے اور حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ حنیف لاکھانی نے کہا کہ جبراً نافذ کیے گئے اس نئے قانون کو کاروباری برادری قبول نہیں کرے گی۔