سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی پریس کلب میں جیئے سندھ محاذ کی زیرنگرانی سندھ اتحاد کانفرنس منعقد

کراچی 22فروری (پی پی آئی)کراچی پریس کلب میں جیئے سندھ محاذ کی زیرنگرانی سندھ اتحاد کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ چیئرمین ریاض چانڈیو کی صدارت میں منعقدہ کانفرنس میں متعدد قوم پرست رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران سندھ کے مختلف مسائل پر قراردادیں منظور کی گئیں۔جیئے سندھ محاذ کے بیان کے مطابق، کانفرنس میں دریائے سندھ پر غیر قانونی کینالز کی تعمیر کی شدید مخالفت کی گئی۔ قرارداد کے مطابق یہ منصوبہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر بنایا گیا ہے اور یہ ارسا ایکٹ اور 1991 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ سندھ کو اس کے حصے کا پانی 1991 کے معاہدے کے تحت ملنے کی حمایت کی گئی۔اقوام متحدہ سے دریائے سندھ کو زندہ ہستی کا درجہ دینے کی درخواست کی گئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی انتقامی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ جتوئی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قوم پرست کارکنوں کی جبری گمشدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انڈس ہائی وے پر حادثات کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کو ذمے دار قرار دیتے ہوئے سڑکوں کی بہتری اور ایمرجنسی صحت مراکز کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔کانفرنس میں اغوا برائے تاوان کے بڑھتے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور سندھ حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ عوام کی حفاظت ریاست کی زمہ داری قرار دی گئی۔کانفرنس میں سندھ کی زمینوں پر کارپوریٹ فارمنگ اور گرین پاکستان انیشیٹو کی مذمت کی گئی۔ کیٹی بندر کی ساحلی پٹی پر قبضے کی مخالفت اور سندھ میں منشیات، اسٹریٹ کرائم اور بھتہ خوری کے لیے سندھ حکومت کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ہندو برادری کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کوٹڑی بیراج کو اسٹریٹجک اثاثہ قرار دینے کی حمایت کی گئی۔کانفرنس کے شرکا نے 26 ویں آئینی ترمیم اور پیکا ایکٹ کو غیر نمائندہ اسمبلی کے ذریعہ پاس کرنے کی کوشش قرار دیا۔ یہ تمام قراردادیں  مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکریٹری سردار عبدالرحیم نے پیش کیں اور شرکانے ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔