پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حکومت بلوچستان میں بس مسافروں کو سیکیورٹی فراہم کرے: الطاف شکور

کراچی، 23 فروری (پی پی آئی) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی  کے چیئرمین الطاف شکور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان میں بسوں اور کوچوں کے مسافروں کو سیکیورٹی فراہم کرے۔ صرف اشرافیہ کو نہیں،عام آدمی کوبھی جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔ بسوں اور کوچوں کو،قافلوں کی صورت،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سیکیورٹی میں چلایا جائے۔ ہر بس میں مسافروں کی حفاظت کے لیے سادہ لباس میں دو سیکیورٹی گارڈز تعینات کئے جائیں۔ سڑکوں پر چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھائی جائے اور تمام حساس علاقوں میں موبائل سیکیورٹی ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ چند دہشت گردوں کو بلوچستان کی شاہراہوں پر انتشار اور بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بلوچستان میں پرامن شہریوں اور مزدوروں کو ذاتی تحفظ کے لیے مفت اسلحہ اور لائسنس فراہم کیا جائے۔جب مزدوروں کے پاس اسلحہ ہوگا تو دہشت گردوں کے لیے انہیں آسان ہدف بنانا مشکل ہو جائے گا۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلوچستان میں کام کرنے والے دیگر صوبوں کے پرامن شہریوں اور مزدوروں کی مناسب ذاتی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ذاتی طور پر بلوچستان کا دورہ کریں، صورتحال کا جائزہ لیں اور حساس علاقوں میں مزید فورسز تعینات کریں تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مسئلے کو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے اگر بسوں اور کوچوں کو مسلح سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ چلایا جائے اور بلوچستان میں ٹھوس سیکیورٹی کے ساتھ قافلے بنائے جائیں۔ بلوچستان کے علاقے بارکھان میں حالیہ سات بس مسافروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے، پی ڈی پی کے  چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ تقریباً ہر ماہ بلوچستان میں مسلح گروہ کئی مسافروں کو بسوں اور کوچوں سے اتار کر قتل کر دیتیہیں، جو ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت ان مسلح گروہوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، جو کہ ہر پاکستانی کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو محسوس کرنے اور بلوچستان میں سڑکوں پر سفر کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ اور مدد فراہم کر رہی ہیں۔ ان تمام تنظیموں اور ان کے مقامی سرپرستوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سیکیورٹی ادارے  بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے گرفت سخت کریں ہر قیمت پر امن و سلامتی کو یقینی بنائیں۔