سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آئی ایل او اور انشورنس کمپنی سے کئے خفیہ معاہدے کو سانحہ بلدیہ متاثرین کے حوالے کرے

کراچی، 23 فروری (پی پی آئی)سانحہ بلدیہ متاثرین کی ایسوسی ایشن نے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے اشتراک سے اتوار کے روز ایک احتجاجی مظاہرہ کراچی پریس کلب کے سامنے منعقد کیا۔ مظاہرہ کی قیادت ایسوسی ایشن کی چیرپرسن حسنہ خاتون نے کی۔مظاہرہ میں بارہ سال پہلے علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری آتشزدگی سانحہ میں شہید ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کی کثیر تعداد کے علاوہ مزدور اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔احتجاجی مظاہرہ میں لواحقین کی قائد حسنہ خاتون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد انصاف کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان کی زندگیوں سے سکون اور چین غائب ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنی اور مزدور تنظیموں کی مشترکہ جدوجہد کے ذریعے جو کچھ بھی حاصل کیا تھا اس کے حصول کے لیے انہیں مسلسل ایذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  سندھ سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوٹ (سیسی) کے اہل کار بیواؤں اور بوڑھے والدین کو مسلسل ھراساں کر رہے ہیں جب کہ ای او بی آئی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے والدین کی پینشن روک دی ہے۔ کمشنر آف کمپنشیسن کی عدالت نے فیکٹری مالکان کو گروپ انشورنس کی رقم کی ادائیگی کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن مالکان نے احکامات ہوا میں اڑا دئے ہیں۔ناصر منصور سکریٹری جنرل نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے لیے سب سے خطرناک صورت حال یہ ہے کہ مزدوروں کی مشترکہ جدوجہد کے نتجے میں 2016 میں جرمن برانڈ نے ایک معاہدہ کے تحت 5 اعشاریہ ایک ملین ڈالرز کی رقم طویل مدتی معاوضہ کے طور تقسیم کے لیے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) کے حوالے کی تھی۔ اس معاہدہ کے تحت فنڈز کی نگرانی کے لیے ایک جمہوری اور مشاورتی طریقہ کار پر مبنی ” اوور سائیٹ کمیٹی” کا قیام عمل میں آیا جس کے ممبران میں مزدور اور لواحقین کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ اور آئی ایل او کے نمائندے بھی شامل تھے۔ لیکن 2022 میں بنا کسی مشاورت نہ صرف اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا بل کہ  معاوضہ کی رقم کو خفیہ معاہدے کے ذریعے ایک مقامی انشورنس کمپنی کے حوالے کر دی گئی جو کہ آئی ایل او کی اپنی ٹرانسپرنسی اور مشاورت پر مبنی اصولوں کی صریحا خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین اور مزدور تنظیمیں یہ جاننے کا حق رکھتی ہیں کہ آئی ایل او نے کتنی رقم انشورنس کمپنی کو دی، معاہدہ میں کون کون سی شرائط ہیں، معاہدہ کو خفیہ رکھنے کی کیا وجوہات ہیں۔ ناصر منصور نے مزید کہا کہ متاثرین اور مزدور تنظیمیں پچھلے تین سال سے آئی ایل او(پاکستان آفس) سے مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ انشورنس کمپنی سے کئے گئے معاہدے کی کاپی انہیں فراہم کی جائے۔ آئی ایل او نے معاہدہ کی کاپی فراہم کرنے سے انکار کر دیا لیکن معاہدہ کی کاپی دیکھنے کا عندیہ دیا لیکن جب مزدور تنظیموں اور متاثرین نے معاہدہ دیکھانے کے لئے کہا تو آئی ایل او کہا کہ معاہدہ کے کچھ حصہ نہیں دیکھائے جائیں گے۔اس سے  آئی ایل او کی ہٹ دھرمی اور کالونیل ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ علی انٹرپرازز فیکٹری فائر ایفیکٹیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد صدیق نے کہا کہ متاثرین کی داد رسی اور لانگ ٹرم کمپنشیسن (طویل مدتی معاوضہ) سے متعلق درپیش پریشانیوں اور مسائل کے حل کے کوئی طریقہ کار نہ ہونے کی بنا پر  بیوائیں اور بوڑھے والدینمسلسل ایذیت سے گزر رہے ہیں۔ پہلے ”اوور سائیٹ کمیٹی” جس میں مزدور، متاثرین اور آئی ایل او کی نمائندگی تھی وہ درپیش مسائل کو بروقت حل کرتی تھی۔ محمد صدیق،جن کا جواں سال بیٹا سانحہ میں جان بحق ہوا تھا، نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کرآئی ایل او سے مطالبہ کیا کہ ایک ایسا طریقہ کار تیار کیا جائے جس میں نگرانی کمیٹی کے ارکان شامل ہوں تاکہ معاوضہ کی تقسیم کے منصوبے کے نفاذ کی نگرانی کی جا سکے۔ مزید برآں، معاہدے کی ایک کاپی بلدیہ معاہدے کے تمام مقامی اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کی جانی چاہیے۔ یقیناً، ہم متاثرین کی ذاتی اور خفیہ معلومات کا احترام کریں گے، جیسا کہ ہم بطور نگرانی کمیٹی کے رکن کرتے آئے ہیں۔ جب تک کوئی نیا شراکتی و مشاورتی نگرانی نظام قائم نہیں ہوتا، متاثرین کے نمائندے ان کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ بطور سابقہ اوور سائیٹ کمیٹی کے ارکان، ہمیں تمام معلومات تک رسائی حاصل تھی، لیکن اب ہمیں معلومات سے محروم کیا جا رہا ہے، جو متاثرین کی صحیح نمائندگی کے خلاف ہے۔ہم اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں مکمل معاہدہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے اور اس کی بنیاد پر ایک نیا شراکتی نگرانی نظام قائم کیا جائے، جس میں نیشنل ٹریڈ یونین  فیڈریشن، علی انٹرپرائز فیکٹری فار ایفکٹیز ایسوسی ایشن  اور پائلر  کے تمام ارکان شامل ہوں۔ اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ آئی ایل او انشورنس کمپنی سے کئے گئے معاہدے کی کاپی مزدوروں تنظیموں اور متاثرین سے شیئر کرے۔ کمشنر سوشل سیکورٹی اپنے ادارے کے اہل کاروں کو والدین اور بیواؤں کو ھراساں کرنے سے روکیں۔ ای او بی آئی کے چیرمین عدالتی فیصلہ کے مطابق والدین کی پینشن بحال کریں۔ فیکٹری مالکان کورٹ کے فیصلہ کے مطابق گروپ انشورنس کی رقم کی فی الفور ادائگی کریں۔