آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 20 روپے کم کی جائیں: یونائٹیڈ بزنس گروپ

کراچی،12مارچ (پی پی آئی)یونائٹیڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 66 ڈالر سے بھی کم سطح پر آ چکی ہے، جس کے مطابق حکومت کو مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں کمی کرنی چاہیے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں زبیر طفیل نے کہا کہ صنعتیں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جن میں روزگار کی فراہمی، زرمبادلہ کمانا اور مقامی کاروبار کی ترقی شامل ہے۔ تاہم، حکومت صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات حل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخ بھی کم کیے جائیں تاکہ کاروباری شعبے کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے کراچی میں رمضان المبارک کے دوران بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹے تک بڑھا دیا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا، حکومت اور کے الیکٹرک مل کر صارفین پر اضافی بجلی بلوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں، جس سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔زبیر طفیل نے کہا کہ جب ملک ترقی کی طرف بڑھتا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، جس سے معیشت متاثر ہوتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور پیٹرول، بجلی اور گیس کے مسائل نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے دیرینہ مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ ملک بھر میں عوام اور کاروباری اداروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔