خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 20 روپے کم کی جائیں: یونائٹیڈ بزنس گروپ

کراچی،12مارچ (پی پی آئی)یونائٹیڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 66 ڈالر سے بھی کم سطح پر آ چکی ہے، جس کے مطابق حکومت کو مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں کمی کرنی چاہیے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں زبیر طفیل نے کہا کہ صنعتیں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جن میں روزگار کی فراہمی، زرمبادلہ کمانا اور مقامی کاروبار کی ترقی شامل ہے۔ تاہم، حکومت صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات حل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخ بھی کم کیے جائیں تاکہ کاروباری شعبے کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے کراچی میں رمضان المبارک کے دوران بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹے تک بڑھا دیا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا، حکومت اور کے الیکٹرک مل کر صارفین پر اضافی بجلی بلوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں، جس سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔زبیر طفیل نے کہا کہ جب ملک ترقی کی طرف بڑھتا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، جس سے معیشت متاثر ہوتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور پیٹرول، بجلی اور گیس کے مسائل نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے دیرینہ مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ ملک بھر میں عوام اور کاروباری اداروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔