شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ کی رضا مندی کے بغیر پانی کے کسی منصوبے کو قبول نہیں کیا جائے گا:ترجمان حکومت سندھ

کراچی،14مارچ (پی پی آئی)حکومت سندھ کی ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی۔ترجمان کے مطابق  دریائے سندھ اور اس کی معاون نہروں پر چھ نئی نہروں کی تعمیر  کے  یہ منصوبے سندھ کے آبی بحران کو مزید سنگین کریں گے۔ سندھ پہلے ہی پانی کی قلت، زرعی مسائل، ماحولیاتی بگاڑ اور انڈس ڈیلٹا کے نقصانات کا سامنا کر رہا ہے۔حکومت سندھ نے ان منصوبوں کو آئین پاکستان اور 1991 کے پانی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ معاہدے کے مطابق تمام صوبوں کو مساوی پانی کی تقسیم کا حق حاصل ہے۔سندھ اسمبلی نے قرارداد میں وفاقی حکومت اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پانی کے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے سندھ کو اس کا جائز پانی فراہم کرے۔قرارداد میں چولستان کینال سمیت تمام نہری منصوبے روکنے اور ان پر مشاورت مکمل ہونے تک سرگرمیاں معطل رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔حکومت سندھ نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی رضا مندی کے بغیر پانی کی ترسیل کے کسی منصوبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔