پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

موجودہ حکومتوں کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں، توجہ صرف اقتدار بچانے پر مرکوز: طاہر کھوکھر

مظفر آباد،19مارچ (پی پی آئی)پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ ملک میں دو جماعتی نظام نے باریوں کا سسٹم قائم کر رکھا ہے، جس کے باعث پاکستان مسلسل مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتوں کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں اور ان کی توجہ صرف اقتدار کو بچانے پر مرکوز ہے، جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ ملک دہشت گردی کا شکار ہے اور پارلیمانی نظام قومی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے۔ اس نظام کے تحت نہ کوئی پائیدار منصوبہ بندی ہوئی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مزید اس نظام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔طاہر کھوکھر نے کہا کہ پاسبان وطن عوامی تحریک کے طور پر اس نظام کو بدلنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہر حکومت نے عوام سے وعدے کیے لیکن اقتدار میں آ کر عوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حقیقی تبدیلی ناگزیر ہے اور ایسا نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو عوام کی حقیقی ترجمانی کرے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پاسبان وطن کا ساتھ دیں تاکہ ملک کو مسائل سے نکال کر ایسا نظام قائم کیا جا سکے جو عوامی حقوق کا تحفظ کرے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ عام آدمی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہے جبکہ حکمران طبقہ مراعات سے مستفید ہو رہا ہے۔طاہر کھوکھر نے کہا کہ پاسبان وطن کا مشن عام آدمی کو اس کا حق دلوانا اور شفاف نظام کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں لیکن موجودہ نظام نے انہیں بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاسبان وطن نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معیاری تعلیم کی فراہمی اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے منصوبے رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاسبان وطن ایک سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ ایک انقلابی تحریک بھی ہے جو عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو روایتی سیاستدانوں کے وعدوں پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقی تبدیلی کے لیے عملی طور پر متحرک ہونا ہوگا۔