متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے لگڑری گاڑیاں خریدنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،جماعت اسلامی

کراچی،28مارچ (پی پی آئی) جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی، محمد فاروق نے ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے لگڑری گاڑیوں کی خریداری کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فاروق نے 26ویں آئینی ترمیم کے منفی اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے افسران کیلئے لگڑری گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی تعلیم، صحت، پینے کا پانی اور عوامی ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی جیسے مسائل حل طلب ہیں۔ فاروق نے ایڈووکیٹ جنرل پر بجٹ کے بارے میں غلط بیانی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہوں نے بجٹ کی بھرپور مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایک ہزار یا 1300سی سی کی گاڑیاں اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے مناسب ہیں، جبکہ زیادہ ہیوی گاڑیوں کی خریداری سے اضافی اخراجات آئیں گے۔  فاروق کا کہنا تھا کہ زیادہ ہیوی گاڑیوں سے نہ صرف رقم خرچ ہوگی بلکہ پٹرول پر بھی زیادہ لاگت آئے گی۔ان کے بقول جماعت اسلامی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔