سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کالج اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے سپلا کااحتجاجی تحریک کا اعلان

کراچی، 8اپریل (پی پی آئی)سندھ پروفیسزر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے کالج اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ سپلا کے عہدیداران کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 اپریل کو سکھر، 17 اپریل کو حیدرآباد اور 22 اپریل کو کراچی میں دھرنے دیے جائیں گے۔سپلا کے مرکزی صدر منور عباس اور سیکریٹری جنرل غلام مصطفیٰ کاکا سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے کالج اساتذہ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ حکومت سندھ سے مایوس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پرائمری سے یونیورسٹی اساتذہ تک سب کی اپ گریڈیشن ہو چکی ہے، مگر کالج اساتذہ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔سپلا کے رہنماؤں نے احتجاجی تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں 14مطالبات شامل کیے ہیں۔ ان مطالبات میں سندھ کے کالج اساتذہ کو صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز کا فائیوٹیئر فارمولا دینے، ترقی کے مواقع فراہم کرنے، اور کالج ایجوکیشن کے عملے کے لیے ہیلتھ کارڈ کا اجراء شامل ہے۔سپلا کے رہنماؤں نے کہا کہ وزیر تعلیم سندھ کو کئی بار تحریری درخواست دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے وہ مجبوراً سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالج اساتذہ کی ترقی، ٹریننگ، اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں۔احتجاجی تحریک میں شامل دیگر مطالبات میں کالجز کی تعمیر نو، جدید ڈیجیٹل کلاس رومز کی فراہمی، مستقل ٹرانسفر اور پوسٹنگ پالیسی کی تیاری، اور کالجز پر حملوں کی روک تھام کے لیے قوانین کو بہتربنانا شامل ہے۔سپلا نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالج اساتذہ کے مسائل کو فوری حل کرے تاکہ وہ وزارت تعلیم کے ساتھ بہتر تعاون کر سکیں۔ احتجاجی تحریک کا مقصد کالج اساتذہ کو ان کے حقوق دلانا اور تعلیمی نظام میں بہتری لانا ہے۔