کوئٹہ،10اپریل (پی پی آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے محکمہ صحت بلوچستان کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں صحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صحت کے شعبے میں سروسز اور انتظامی بہتری کے لیے بلوچستان انسٹی ٹیوشنل ریفارمز ایکٹ متعارف کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے زیر التواء 12 قانونی مسودوں پر پیشرفت تیز کرنے کی ہدایت کی جن میں سے 5 مسودے تکمیلی مراحل میں ہیں۔سیکرٹری صحت مجیب الرٰحمان پانیزئی نے بریفنگ میں بتایا کہ محکمہ صحت میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اب تک 1600 ڈاکٹرز، 1600 پیرا میڈیکس، 60 فیکلٹی ممبرز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور سینئر رجسٹرارز کی بھرتیاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ مزید 800 ڈاکٹرز کی بھرتی بھی جلد کی جائے گی۔پولیو کے خلاف اقدامات پر بتایا گیا کہ نجی شعبے سے 8000 افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور پولیو مہم کو موثر بنایا گیا ہے، جس کے باعث پولیو کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ محکمہ صحت میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، فیسلیٹیشن مراکز، سرویلنس سینٹرز، ڈیٹا سینٹر اور نیٹ ورک آپریشن سینٹرز کے قیام کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے ہیلتھ سیکٹر ریفارمز یونٹ کو جلد فعال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں عوامی مفاد کے برعکس کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے انفرادی کارکردگی جانچنے کے لیے “کی پرفارمنس انڈیکیٹرز” تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ صحت کو ہر سال 80 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جاتے ہیں اور یہ رقم عوام کی صحت پر خرچ ہونی چاہیے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
Next Post
سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی قائم، سائبر کرائم سے نمٹنے کا نیا نظام
Thu Apr 10 , 2025
کراچی، 10اپریل (پی پی آئی)ایف آئی اے نے پیکا ایکٹ 2025ء کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی قائم کر دی ہے، جس کا مقصد سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ اور آن لائن سیفٹی کو یقینی بنانا ہے۔اتھارٹی سوشل میڈیا پر غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کی […]
