اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

صوبہ میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ،10اپریل (پی پی آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے محکمہ صحت بلوچستان کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں صحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صحت کے شعبے میں سروسز اور انتظامی بہتری کے لیے بلوچستان انسٹی ٹیوشنل ریفارمز ایکٹ متعارف کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے زیر التواء  12 قانونی مسودوں پر پیشرفت تیز کرنے کی ہدایت کی جن میں سے 5 مسودے تکمیلی مراحل میں ہیں۔سیکرٹری صحت مجیب الرٰحمان پانیزئی نے بریفنگ میں بتایا کہ محکمہ صحت میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اب تک 1600 ڈاکٹرز، 1600 پیرا میڈیکس، 60 فیکلٹی ممبرز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور سینئر رجسٹرارز کی بھرتیاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ مزید 800 ڈاکٹرز کی بھرتی بھی جلد کی جائے گی۔پولیو کے خلاف اقدامات پر بتایا گیا کہ نجی شعبے سے 8000 افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور پولیو مہم کو موثر بنایا گیا ہے، جس کے باعث پولیو کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ محکمہ صحت میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، فیسلیٹیشن مراکز، سرویلنس سینٹرز، ڈیٹا سینٹر اور نیٹ ورک آپریشن سینٹرز کے قیام کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے ہیلتھ سیکٹر ریفارمز یونٹ کو جلد فعال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں عوامی مفاد کے برعکس کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے انفرادی کارکردگی جانچنے کے لیے “کی پرفارمنس انڈیکیٹرز” تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ صحت کو ہر سال 80 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جاتے ہیں اور یہ رقم عوام کی صحت پر خرچ ہونی چاہیے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔