ٹھٹھہ 06اپریل(پی پی آئی) سابق صوبائی وزیر سینیٹر سسئی پلیجو نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو برابری کا حق حاصل ہونا چاہیے، لیکن سندھ میں زراعت اور پینے کے پانی کی قلت کے باوجود خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر سوال اٹھایا ہے۔سسئی پلیجو نے کہا کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر واقع کیٹی بندر اور کارو چھان کے ساحلی علاقوں میں شہریوں کو زراعت تو دور کی بات، پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سندھ کی معیشت کو ترقی دینے کے بجائے سندھ دشمن نہریں بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔سینیٹر پلیجو نے سوال اٹھایا کہ سندھ سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل کی 70 فیصد سے زائد پیداوار کے باوجود سندھ خود ان وسائل سے محروم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ وفاق اور ادارے سندھ کے پرامن مزاج کو کمزوری نہ سمجھیں، اور سندھ کے عوام مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔سینیٹر پلیجو نے حکمرانوں سے سوال کیا کہ جو صوبہ پورے ملک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اسے مسلسل غربت، بھوک اور افلاس کی صورتحال میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ انہوں نے سندھ کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
Next Post
سندھ کے شعور کو شکست دینا پی پی کے بس کی بات نہیں:لعل چند مالہی
Sun Apr 6 , 2025
عمرکوٹ 06اپریل(پی پی آئی) پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے اور این اے 213 عمرکوٹ کے ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے اور سندھ دریا بچاو¿ تحریک کے نامزد مشترکہ امیدوار لعل چند مالہی نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں […]
