ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سول سوسائٹی کا کراچی بلڈنگ قوانین میں خفیہ ترامیم پر احتجاج، شفافیت اور شہری اراضی اصلاحات کا مطالبہ

کراچی،  25 اپریل  (پی پی آئی) ممتاز شہری منصوبہ سازوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور حقوق کے علمبرداروں نے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں خفیہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے شہر کے ماحول، رہائش کے معیار اور مکانات کی مساوی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔جمعہ کو کراچی پریس کلب میں منعقدہ مشاورتی اجلاس بعنوان “کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں ترامیم اور شہر کا مستقبل” کے دوران مقررین نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو عوامی مشاورت یا نگرانی کے بغیر تعمیراتی قوانین میں بڑی تبدیلیاں کر رہی ہے۔معروف آرکیٹیکٹ اور منصوبہ ساز عارف حسن نے سندھ میں شہری اراضی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے رہائشی سہولیات کی کمی انہیں غیر منصوبہ بند کچی آبادیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “سستے گھروں کی عدم دستیابی صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ گورننس کی ناکامی ہے”۔ انہوں نے زمین کی ملکیت پر حد مقرر کرنے والے قوانین کی تجویز دی تاکہ اراضی کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے رہائشی علاقوں جیسے کہ بلاک 6 میں بے قاعدہ تجارتی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کاروباری ترقی شہری معیشت کے لیے ضروری ہے، مگر اسے منصوبہ بندی کے بغیر فروغ دینا شہر کے ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے۔