ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

چھ متنازعہ نہروں کے خلاف ببر لو میں دھرنا گیارھویں دن میں داخل

سکھر، 28 اپریل (پی پی آ ئی) ببر لو بائی پاس پر آل سندھ وکلا ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری احتجاجی دھرنا پیر کو اپنے گیارھویں روز میں داخل ہو گیا، جس کے باعث سندھ اور پنجاب کے درمیان اشیائے خوردونوش اور دیگر سامان کی نقل و حمل مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے اور اب تک ملکی معیشت کو 500 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔یہ دھرنا 18 اپریل کو شروع ہوا تھا اور وفاقی حکومت کی جانب سے دریائے سندھ پر چھ نئی نہریں تعمیر کرنے اور کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کے طور پر جاری ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ یہ منصو بہ سندھ کے آبی حقوق اور زرعی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔دھرنے کی قیادت کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ کر رہے ہیں۔مظاہرے کو جئے سندھ قومی محاذ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی، قومی عوامی تحریک، پی پی پی-شہید بھٹو، جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ، سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھیا نی تحریک سمیت مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ نہری منصوبے اور کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں کیونکہ یہ 1991ء کے واٹر اکورڈ کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ان منصوبوں کی تعمیر کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) میں اتفاق رائے تک روک دی گئی ہے، تاہم مظاہرین اپنے مطالبے پر قائم ہیں اور منصوبوں کی باقاعدہ منسوخی کا تحریری نوٹیفکیشن چاہتے ہیں۔یہ احتجاج اب سندھ کے دیگر شہروں تک بھی پھیل چکا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں کارکنوں نے ریلیاں اور علامتی دھرنے دے کر اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ سول سوسائٹی، طلبہ اور پیشہ ور افراد بھی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے لیے میدان میں آ چکے ہیں اور وسائل فراہم کر رہے ہیں۔