آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے پہلگام واقعہ کے بھارتی موقف کو مسترد کردیا

راؤلاکوٹ،29اپریل (پی پی آئی) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے راولاکوٹ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پہلگام واقعہ کے حوالے سے بھارتی موقف کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سانحہ پہلگام کی منصوبہ بندی راولاکوٹ میں کی گئی۔ جے کے ایل ایف نے اس بیان کو غیر ملکی جنگجوؤں کی تقاریر کو کشمیری قوم سے جوڑنے کی کوشش قرار دیا، جسے پرامن کشمیری قوم ہرگز قبول نہیں کرتی۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس واقعہ کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کے لیے غیر جانبدارانہ ٹیم پر مشتمل ٹربیونل بنائیں اور راولاکوٹ کا دورہ کریں تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ یہاں کوئی دہشت گردی کا مرکز نہیں ہے اور یہاں کے لوگ تشدد کی سیاست سے دور ہیں۔ آج ہزاروں افراد نے راولاکوٹ میں جمع ہو کر بھارت کو پیغام دیا کہ وہ نہرو کے وعدے کے مطابق اقوام متحدہ میں تسلیم کیے گئے حق خودارادیت کو عملی جامہ پہنائے، تاکہ اس خطے کو جوہری جنگ سے بچایا جا سکے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے فیصلے کو، جو جموں کشمیر کے قومی وجود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، کشمیریوں کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں منعقدہ امان للہ خان جہد مسلسل کنونشن میں گلگت، آزاد جموں کشمیر اور پاکستان کے مختلف شہروں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس سے قبل حسین خان شہید کالج سے معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74نامنظور ریلی نکالی گئی۔ کنونشن میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74 کو ختم کر کے آزاد کشمیر اور شمالی کشمیر گلگت بلتستان پر مشتمل حکومت کو بحال کرے۔ جلسے سے رفیق ڈار، سلیم ہارون، این ایس ایف پاکستان کے سابق صدر حیدر علی صابر، شفقت مغل، ساجد صدیقی، ارباب ایڈوکیٹ سہیل کٹاریہ، ساجد بخاری، کمانڈر فاروق، عبدالرحیم ملک سمیت دو درجن سے زائد مقررین نے خطاب کیا۔