آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، ٹینکر مافیا کی چاندی، جماعت اسلامی کا واٹر بورڈ سے احتجاج

کراچی، 13مئی (پی پی آئی)جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح وفد نے شہر میں پانی کے شدید بحران اور عوام کو درپیش مشکلات کے خلاف واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سی ای او احمد علی خان، سی او او اسداللہ خان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ وفد نے شہریوں کو پانی کی عدم فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔وفد میں قائد حزب اختلاف کے ایم سی و نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبد الجمیل خان، چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد اور سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد شامل تھے، جبکہ واٹر بورڈ کی جانب سے چیف انجینئرز محمد علی شیخ، منیر بٹ، معین الدین اور دیگر افسران موجود تھے۔منعم ظفر خان نے اجلاس میں نشاندہی کی کہ شہر کو پانی فراہم کرنے والی مرکزی لائن گزشتہ چند ماہ میں کئی مرتبہ ٹوٹ چکی ہے، جس کے باعث بارہا آدھے شہر میں پانی کی فراہمی بند ہو جاتی ہے اور ٹینکر مافیا کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اگر 2005 میں جماعت اسلامی کے دورِ نظامت میں شروع کیا گیا “کے فور” منصوبہ وقت پر مکمل کر لیا جاتا، تو آج یہ بدترین بحران دیکھنے کو نہ ملتا۔ منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو جب نلکوں سے پانی نہ ملے اور ان کے سامنے ہائیڈرنٹس سے ٹینکرز بھرے جا رہے ہوں تو غم و غصہ فطری ردعمل ہے۔ اس لیے واٹر بورڈ اپنی نااہلی ختم کرے اور عوام کو ان کا حق فراہم کرے۔جماعت اسلامی کراچی کے رہنما نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سترہ سال سے اقتدار میں رہنے کے باوجود پیپلز پارٹی عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت تک مہیا نہیں کر سکی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کئی مرتبہ “کے فور” منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا، لیکن آج تک یہ مکمل کیوں نہیں ہو سکا؟انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے حصے کا پورا پانی فوری طور پر فراہم کیا جائے اور پانی چوری و ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بصورت دیگر جماعت اسلامی عوام کے ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔