شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، ٹینکر مافیا کی چاندی، جماعت اسلامی کا واٹر بورڈ سے احتجاج

کراچی، 13مئی (پی پی آئی)جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح وفد نے شہر میں پانی کے شدید بحران اور عوام کو درپیش مشکلات کے خلاف واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سی ای او احمد علی خان، سی او او اسداللہ خان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ وفد نے شہریوں کو پانی کی عدم فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔وفد میں قائد حزب اختلاف کے ایم سی و نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبد الجمیل خان، چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد اور سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد شامل تھے، جبکہ واٹر بورڈ کی جانب سے چیف انجینئرز محمد علی شیخ، منیر بٹ، معین الدین اور دیگر افسران موجود تھے۔منعم ظفر خان نے اجلاس میں نشاندہی کی کہ شہر کو پانی فراہم کرنے والی مرکزی لائن گزشتہ چند ماہ میں کئی مرتبہ ٹوٹ چکی ہے، جس کے باعث بارہا آدھے شہر میں پانی کی فراہمی بند ہو جاتی ہے اور ٹینکر مافیا کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اگر 2005 میں جماعت اسلامی کے دورِ نظامت میں شروع کیا گیا “کے فور” منصوبہ وقت پر مکمل کر لیا جاتا، تو آج یہ بدترین بحران دیکھنے کو نہ ملتا۔ منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو جب نلکوں سے پانی نہ ملے اور ان کے سامنے ہائیڈرنٹس سے ٹینکرز بھرے جا رہے ہوں تو غم و غصہ فطری ردعمل ہے۔ اس لیے واٹر بورڈ اپنی نااہلی ختم کرے اور عوام کو ان کا حق فراہم کرے۔جماعت اسلامی کراچی کے رہنما نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سترہ سال سے اقتدار میں رہنے کے باوجود پیپلز پارٹی عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت تک مہیا نہیں کر سکی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کئی مرتبہ “کے فور” منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا، لیکن آج تک یہ مکمل کیوں نہیں ہو سکا؟انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے حصے کا پورا پانی فوری طور پر فراہم کیا جائے اور پانی چوری و ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بصورت دیگر جماعت اسلامی عوام کے ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔