خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ملک میں آئینی حکمرانی کی جگہ جنگل کا قانون لے چکا ہے:حلیم عادل

کراچی، 14 مئی (پی پی آئی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کے فوکل پرسن اور سینئر قانون دان ایڈووکیٹ انتظار حسین پنجوتھا نے جمعرات کو انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے سینئر ارکان سے ملاقات میں پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے تحفظ میں وکلا کے اہم کردار پر زور دیا۔ ملاقات مین عمران خان کی رہائی کے لیے قانونی جدوجہد تیز کرنے اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر بات چیت کی گئی۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ سمیت کئی اہم شخصیات نے اجلاس میں شرکت کی، جہاں آئی ایل ایف کی تنظیم نو اور آنے والے بار کونسل انتخابات کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔ انتظار پنجوتھا نے بابا لوئی احتجاج میں سندھ کے وکلا کے کردار کو سراہا اور اسے ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دیا۔انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (PECA) میں کی گئی ترامیم کو واپس لینے کی قانونی کوششوں کی اپیل کی، جنہیں انہوں نے آزادی اظہار کے خلاف قرار دیا۔بیرسٹر علی اعجاز بٹر نے موجودہ حکومت کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ وکلا بار انتخابات میں حصہ لے کر عدلیہ کی آزادی بحال کریں گے۔اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے کہا، “ملک میں آئینی حکمرانی کی جگہ جنگل کا قانون لے چکا ہے، جس سے انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو کمزور کیا جبکہ PECA میں ترامیم نے آزادی اظہار پر سخت پابندیاں عائد کیں، جن کے خلاف متحدہ قانونی مزاحمت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئینی بالادستی اور وکلا کی تحریک کو انصاف کے حصول کے لیے ناگزیر قرار دیا۔