ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سازگارکاروباری ماحول فراہم کرنے کیلئے بیٹھک

کراچی، 15مئی (پی پی آئی)وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصراحمد شیخ کی زیر صدارت سرمایہ کاری بورڈ کے کراچی دفتر میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (PRMI) پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو، پنجاب کے اسپیشل سیکریٹری انڈسٹریز، سندھ انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری اور سندھ انویسٹمنٹ بورڈ کے نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں پنجاب اور سندھ میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی، جن کا مقصد کاروباری عمل کو آسان بنانا اور غیر ضروری ضابطوں کو ختم کرنا ہے۔ سندھ کے سیکریٹری سرمایہ کاری نے صوبے میں شروع کی گئی ’ون اسٹاپ سروس‘ کا تفصیل سے ذکر کیا، جس کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے سہولت فراہم کرنے اور کاغذی کارروائی میں کمی لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، قوانین کی ہم آہنگی، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی افادیت کو بڑھانے سے کاروباری برادری کو حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اجلاس میں چھوٹے کاروباروں کے لیے سہولیات فراہم کرنے اور فنی تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت کے ذریعے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔وفاقی وزیر قیسراحمد شیخ نے تمام شرکاء کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اصلاحاتی عمل میں تمام صوبے اور نجی شعبہ فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ کاروباری ماحول کو مزید بہتر اور شفاف بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے PRMI کے تحت اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر اتفاق کیا۔