شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اسرائیل کی بمباری، جماعت اسلامی کی شدید مذمت، رفاہ بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ

کراچی، 17مئی (پی پی آئی)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے امریکہ کو اس خونی عمل کا سرپرست قرار دیا ہے اور عالمی برادری، خصوصاً مسلم حکمرانوں کی خاموشی پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر رفاہ بارڈر کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ محصور فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کی جا سکے۔منعم ظفر خان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں، خواتین، بچوں اور مریضوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی فراہمی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شرمناک ہے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اب تک تقریباً 3 ہزار فلسطینی شہید اور 8 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہر چار منٹ بعد ایک فضائی حملہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے بجائے غزہ پر امریکی کنٹرول حاصل کرنے کی بات کر رہے ہیں جو قابلِ مذمت ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ قبلہ اول کا تحفظ اور اس کی آزادی مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ناجائز اور غیر قانونی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور مغربی طاقتوں نے وہاں یہودیوں کو لا کر بسایا اور اب فلسطینیوں سے ان کی زمین چھینی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حماس کے مجاہدین اور اہلِ غزہ فلسطین کے دفاع اور قبلہ اول کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور امت مسلمہ کسی صورت میں ان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اگرچہ عرب حکمران خاموش ہیں، لیکن پوری امت حماس اور اہلِ غزہ کے ساتھ کھڑی ہے۔