اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جماعت اسلامی کی سندھ بھر میں بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان

کراچی،18مئی (پی پی آئی)جماعت اسلامی نے صوبہ سندھ میں بدامنی اور ڈاکوراج کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے، جو 23 مئی کو کراچی سے کشمور تک منعقد کیے جائیں گے۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے عوام سے ان مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔کاشف سعید شیخ نے لوئر سندھ کے ضلعی امراء   کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت گزشتہ سترہ سال سے کراچی سے کشمور تک امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی خاص طور پر کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد میں عوام کی زندگی کو اجیرن بنا چکی ہے۔کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ مقامی وڈیروں، ڈاکوؤں اور پولیس میں موجود کالی بھیڑیوں کے کٹھ جوڑ نے اغوا برائے تاوان کو منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی پر ڈاکہ، زمینوں اور وسائل پر قبضے کی سازش سے لے کر ڈاکوراج تک صوبہ نافیاز کے گھیرے میں ہے، جس سے تعلیم، کاروبار، معیشت اور ثقافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر ہندو اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں ہندو خاندان ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس سے پہلے بھی آل پارٹیز کانفرنس اور دھرنوں کے ذریعے اس سنگین مسئلے پر آواز اٹھائی ہے۔صوبائی امیر نے کہا کہ امن کی بھیک مانگنے کے بجائے امن دینے کے لیے احتجاج کرنے والوں پر دہشتگردی کے مقدمات بنانا حکمرانوں کا شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جمعہ کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرکے بیداری کا ثبوت دیں۔ اجلاس میں لوئر سندھ کے ذمہ داران کی شرکت بھی شامل تھی، جن میں کارکردگی رپورٹ سمیت دیگر عوامی و تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔