اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سمارٹ سرویلنس سسٹم:دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں خودکار نظام سے شناخت ہوں گی

کراچی، 21 مئی (پی پی آئی) سندھ حکومت نے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے اسمارٹ سرویلنس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی سندھ کے سیکریٹری آغا شہنواز نے بتایا کہ سرویلنس سسٹم کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا اور یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو خودکار طریقے سے شناخت کر کے ٹریفک پولیس کے تعاون سے جرمانہ کیا جائے گا۔اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی، صنعتی فضلہ اور ساحلی علاقوں کو لاحق خطرات پر گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں ڈی جی سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) وقار حسین پھلپوٹو، ڈائریکٹر نیچرل ریسورسز عمران صابر، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹرز اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی۔FPCCI کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ چھوٹی صنعتیں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعتی اداروں کی ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔ڈی جی سیپا وقار حسین نے صنعتی فضلے کے مناسب اخراج کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ سندھ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ کی پاسداری کریں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ماحولیاتی ماہرین نے اجلاس کو بتایا کہ ساحلی علاقوں میں پانی کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مینگرووز ختم ہو رہے ہیں۔ یہ مینگرووز سمندری حیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آغا شہنواز نے تجویز دی کہ پانی کی قلت اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایک ایمرجنسی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اجلاس کے شرکاء  نے حکومت کی مجوزہ منصوبہ بندی کو سراہا اور آئندہ اقدامات میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔