شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ٹیکسٹائل سیکٹر نے پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا؛ وزیر تجارت نے بجٹ سپورٹ کی یقین دہانی کرائی

اسلام آباد، 24 مئی (پی پی آئی) پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے وفاقی وزیر تجارت، جام کمال خان سے ملاقات کی، جس میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات کی سربراہی پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کی۔ وفد نے محصولات اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات، توانائی کے نرخ، اور دیگر پالیسی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا تاکہ ملکی ٹیکسٹائل صنعت کی مسابقتی حیثیت کو بہتر بنایا جا سکے اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو۔چیئرمین فواد انور نے اس موقع پر کہا کہ اگر سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو ٹیکسٹائل شعبہ سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات دے سکتا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت نے وفد کو آئندہ وفاقی بجٹ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت علاقائی سطح پر محصولات میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو محصولات میں اصلاحات کے لیے فریم ورک تیار کر رہی ہے۔ملاقات میں توانائی کے شعبے میں علاقائی مسابقتی نرخوں، اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے مؤثر استعمال پر بھی غور کیا گیا۔ پی ٹی سی نے گرین کریڈٹ اسکیمز متعارف کرانے کی تجویز دی تاکہ بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات کو پورا کیا جا سکے اور صنعتی شعبے کی کاربن اخراج میں کمی ممکن ہو۔جام کمال خان نے پالیسی میں تسلسل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی صنعت کی حمایت ملک کی معاشی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ وفد نے اس موقع پر شعبے کی جانب سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے کہ سولر اور ونڈ انرجی کی جانب منتقلی پر بھی روشنی ڈالی، اور حکومت سے اس سفر میں مسلسل معاونت کی اپیل کی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ بجٹ میں ایسے اقدامات شامل کیے جا سکیں جو پاکستان کے ٹیکسٹائل و ملبوسات کے شعبے کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہوں، جو کہ قومی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔