سکھر، 4 جون (پی پی آئی)سینئر سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل اینڈ کوریکشنل سینٹر سکھر، شہاب الدین صدیقی کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سنٹرل جیل اینڈ کوریکشنل سینٹر سکھر میں قید سزائے موت کاقیدی ندیم اختر ولد عبدالرؤف شیخ جیل ہسپتال میں انتقال کر گیا۔ اسے 30 مئی 2025 کو طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں اس کا علاج جاری رہا لیکن صحت میں بہتری نہیں آئی-
aعلامیہ کے مطابق سزائے موت کے قیدی ندیم اختر کو 29 اگست 2008 کو ایڈیشنل سیشن جج سزائے موت سنائی تھی، جبکہ مرحوم کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد میں زیر سماعت بھی ہے۔ قیدی کی وفات کی اطلاع ملنے کے بعد جیل انتظامیہ نے قانونی اور خاندانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قیدی کے وارثین/رشتہ داروں سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن رابطہ نہیں ہو سکا جس کی اطلاع سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس حیدرآباد کو بھی دی گئی۔
اعلامیہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ روہڑی کی نگرانی میں تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے تعلقہ ہسپتال روہڑی منتقل کیا گیا۔ مرحوم کے وارثین سے رابطے کی کوششوں کے باوجود کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے بعد سول مجسٹریٹ کے حکم پر میت کو دفنانے کے لیے اید?ی سینٹر سکھر کے حوالے کر دیا گیا۔
