کراچی ، 17 جولائی 2025 (پی پی آئی): نظام مصطفی پارٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیرِ پٹرولیم، ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی، بے روزگاری، مہنگائی، بجلی کی بندش، پانی اور گیس کی قلت نے عوام کے لیے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایک پریس ریلیز میں انہوں نے حالیہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “”معاشی قتل”” اور “”ظلم”” قرار دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں حالیہ پانچ روپے اور ڈیزل میں گیارہ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس ماہ کے شروع میں ڈیزل کی قیمت میں دس روپے اور پٹرول میں آٹھ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر طیب نے کہا کہ پندرہ دن کے اندر اندر پٹرول کی قیمتوں میں 34 روپے کا مجموعی اضافہ “”ناقابلِ برداشت”” ہے۔
ڈاکٹر طیب نے حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں پر مہنگائی کے تباہ کن اثرات کا اعتراف کریں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ضروری اشیاء، خاص طور پر کھانے پینے اور نقل و حمل پر پڑتا ہے۔ انہوں نے دونوں فریقین سے اپیل کی کہ وہ عوام کے ان اہم خدشات کو دور کرنے کو ترجیح دیں۔
