اسلام آباد، 21 جولائی 2025 (پی پی آئی): اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور معروف بزنس لیڈر شاہد رشید بٹ نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ موسلا دھار بارشوں سے نہ صرف سینکڑوں اموات اور زخمی ہوئے ہیں اور کروڑوں روپے کی فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اربوں ڈالر کا قیمتی تازہ پانی بھی ضائع ہو گیا ہے۔ انہوں نے اسے “قومی خودکشی” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ پانی کی کمی والے ملک میں ایسا عمل ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔
تجارت پیشہ افراد سے گفتگو کرتے ہوئے، بٹ نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، پھر بھی اس پر حکومت کی جانب سے مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام پہلے سے موجود ہوتے تو یہ پانی تباہ کن قوت بننے کے بجائے زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبوں کے لیے زندگی کا سامان ثابت ہو سکتا تھا۔
ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ پاکستان کو دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ پانی کے دباؤ والا ملک قرار دیتا ہے۔ ملک سالانہ تقریباً 29 بلین ڈالر مالیت کا پانی ضائع کرتا ہے، یہ حجم ملک کی 180 بلین ڈالر سالانہ اقتصادی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پورا کر سکتا ہے۔
بٹ نے تمام نئی سرکاری، تجارتی اور رہائشی عمارتوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے خصوصی ٹینکوں کی تعمیر کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا، یہ عمل کئی ممالک میں پہلے ہی نافذ ہے۔ جاپان اور سنگاپور اپنی سالانہ بارش کا 80 فیصد تک محفوظ کرتے ہیں، جس سے ان کی پانی کی ضروریات کا نصف حصہ پورا ہوتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ پانی کا ضیاع صرف سیلاب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ معیشت، غذائی تحفظ اور قومی سلامتی پر براہ راست حملہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کے بغیر، پاکستان کو قریب مستقبل میں شدید پانی کی قلت، زرعی تباہی اور مہنگائی میں ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بارش کو آفت سے نعمت میں تبدیل کرنے کے لیے فوری اور جامع پانی کی پالیسی وضع کرے۔
