اسلام آباد، 25 جولائی 2025 (پی پی آئی): سپریم کورٹ آف پاکستان نے ضمانت مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاریاں لازم قرار دے دی ہیں اور کسی بھی قسم کی التوا کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلہ تحریر کیا ہے جس میں عدالتی احکامات کی پاسداری کو عدالتی عمل کے لیے ازحد ضروری قرار دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس آفریدی کی سربراہی میں بننے والے بینچ کے جاری کردہ چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے سے کسی فرد کو خود بخود حراست سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔ فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ گرفتاری سے عارضی آزادی از خود حاصل نہیں ہوتی اور اس کے لیے واضح عدالتی اجازت ضروری ہے۔
چیف جسٹس آفریدی نے عدالتی ہدایات پر فوری عملدرآمد کو انصاف کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاخیر سے گرفتاری کی وجہ “انتظامی سہولت” کو مسترد کرتے ہوئے ایسی تاخیریوں کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔
عدالت نے ایک مخصوص مثال کا حوالہ دیا جہاں لاہور ہائی کورٹ نے زاہد خان اور دیگر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے باوجود، قانون نافذ کرنے والے ادارے چھ ماہ تک ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ نے اسے انصاف کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ قرار دیا۔
فیصلے میں مزید انکشاف کیا گیا کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے اس غفلت کا اعتراف کیا اور عدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہدایت جاری کرنے کا وعدہ کیا۔ فیصلے میں زور دیا گیا کہ اس طرح کی بلاجواز التوا قانونی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے اور عوامی اعتماد کو کم کرتی ہے۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ زیر التوا اپیل از خود حراست کو روک نہیں سکتی جب تک کہ عدالت کی طرف سے خاص طور پر ہدایت نہ دی جائے۔ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے درخواست واپس لینے کے بعد عدالت نے اپیل خارج کر دی۔
