کراچی، 28 جولائی 2025 (پی پی آئی): یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر، معروف صنعت کار، اور بزنس مینیٹ زبیر طفیل نے شرح سود کو فوری طور پر سنگل ڈیجیٹ تک کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے 30 جولائی کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کے اعلان میں اس اقدام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاروباروں پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
طفیل نے مسلسل زیادہ شرح سود کی وجہ سے پاکستانی صنعتوں کو درپیش سنگین مشکلات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی ریٹ دوہرے ہندسوں میں رہتا ہے تو آنے والے ہفتوں میں کاروبار بند ہو سکتے ہیں، جس سے قومی معیشت اور اس کے شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے دلیل دی کہ صنعتیں معیشت کی بنیاد ہیں۔ ان کے زوال سے ملازمتوں میں کمی، برآمدات میں کمی، ٹیکس وصولی میں کمی اور مجموعی طور پر معاشی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ شرح سود ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، جو صنعتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور کاروباروں پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہی ہے۔
انہوں نے دیگر ایشیائی ممالک میں کافی کم شرح سود کی کئی مثالیں دیں، جن میں ویتنام (6.3%)، کمبوڈیا (3%)، انڈونیشیا (6%)، اور بھارت (5.5%) شامل ہیں، یہ سب پاکستانی اداروں کے سامنے آنے والی شرحوں سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ طفیل نے اسٹیٹ بینک اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شرح سود کو کم کرکے معیشت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔
