اسلام آباد، 30 جولائی 2025(پی پی آئی): اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بینچ مارک شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری رہنماؤں نے شدید تنقید کی ہے۔ سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک نے کاروباری برادری کی سنگل ڈیجیٹ پالیسی ریٹ کی درخواست کو نظر انداز کیا ہے۔
ایک جاری کردہ بیان میں، علوی نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر حالیہ افراطِ زر میں کمی کے پیشِ نظر۔ انہوں نے وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام کا عوامی طور پر جواز پیش کریں اور کاروباری شعبے سے مشاورت کریں۔
علوی نے پاکستان کے حق میں عالمی رجحانات کی حوصلہ افزائی کا ذکر کیا اور موجودہ قومی اتحاد کو اقتصادی فوائد کے لیے ایک مناسب موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ شرحِ سود برقرار رکھنے سے ترقی میں رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے 5 فیصد سے 6 فیصد کے درمیان پالیسی ریٹ کے لیے کاروباری برادری کے دیرینہ مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ 11 فیصد شرح نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو مایوس کیا ہے۔ علوی نے حکومت، وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کریں، کاروباری برادری سے مشاورت کریں اور قومی معیشت کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کریں
