کراچی ماری پور روڈ پر دعا ہوٹل کے قریب پولیس مقابلہ ، ایک ڈاکو ہلاک ،ساتھی فرار ، پولیس اہلکار زخمی

کورنگی میں ٹرسٹ کے مقام پر ایک کثیرالمقاصد ٹینس کورٹ قائم ہوگا

پنگریو واجبات سے محروم سرکاری عملہ کا احتجاج ، غیر ادا شدہ تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ

کراچی ڈیفنس سوسائٹی بخاری سگنل کے قریب ڈالا فٹ پاتھ پر چڑھنے سے باپ جاں بحق ، بیٹا زخمی

جھنگ میں بارش کے باعث نکاسی آب کیلئے ٹیمیں فیلڈ میں الرٹ

ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کا رولپنڈی میں انسداد منشیات فورس ہیڈکوارٹرز کا دورہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی محکموں میں کھربوں کی مالی بے قاعدگیاں لمحہ فکریہ ہیں:جے یو پی

کراچی، 24 اگست 2025 (پی پی آئی): جمعیت علماءِ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں وفاقی اداروں اور تنظیموں میں 375 کھرب روپے کی بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس انکشاف کو ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سیاسی اشرافیہ اور بعض بیوروکریٹس قومی خزانے کو بدعنوانی کے ذریعے لوٹ رہے ہیں اور اس کا بوجھ غریبوں پر ڈال رہے ہیں۔

ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ پاکستان کے مالی مسائل عوام پر ٹیکس لگا کر حل نہیں ہوں گے بلکہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی، چوری اور بدانتظامی سے نمٹ کر حل ہوں گے۔

انہوں نے ان مسائل کو پاکستان کی معاشی مشکلات اور عوام پر بھاری ٹیکس کے بوجھ کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ 375 کھرب روپے واپس مل جائیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف کی مدد لینے یا بجلی، گیس اور ایندھن جیسی اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ڈاکٹر زبیر نے زور دے کر کہا کہ عوام کو مشکلات کا شکار کرتے ہوئے بدعنوانی اور مالی بدانتظامی کو چھپانا ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے تمام سرکاری محکموں کا آزادانہ جائزہ لینے، عوام کے لوٹے ہوئے پیسے واپس لانے اور آڈیٹر جنرل کے نتائج کی بنیاد پر ایک کھلا اور غیر جانبدارانہ احتساب کا طریقہ کار قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے قومی خزانے کو لوٹنے والوں کے لیے عبرت ناک سزائیں دینے کا بھی مطالبہ کیا۔