اسلام آباد، 16 ستمبر 2025 (پی پی آئی): اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے منگل کے روز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سربراہ میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری برطرفی کا حکم دیا ہے۔ جسٹس بابر ستار نے 99 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ میجر جنرل کی تقرری قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کے سینئر ترین ممبر مستقل جانشین کے تقرر تک قائم مقام سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
حفیظ الرحمن کی تقرری کو قانونی چیلنجز کا سامنا تھا جس میں تقرری کے طریقہ کار میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ مدعیوں نے استدلال کیا کہ ان کا انتخاب قائم کردہ قانونی چارچوبے اور شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا گیا۔ آئی ایچ سی نے ان خدشات کی توثیق کی اور ریگولیٹری اداروں میں شفاف اور قانونی تقرریوں کی ضرورت پر زور دیا۔
اس فیصلے کے ٹیلی کام ریگولیٹری ادارے پر خاص طور پر اس وقت نمایاں اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے جب یہ صنعت آن لائن نگرانی، انٹرنیٹ انتظامیہ اور معلومات کی رازداری سے متعلق مسائل سے نمٹ رہی ہے۔
