اسلام آباد، 22 ستمبر 2025 (پی پی آئی): انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پیر کے روز سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا ہے۔
جج طاہر عباس سپرا کی سربراہی میں عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ قیصر کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔
تاہم، عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزراء اسد عمر اور شبلی فراز کو ذاتی پیشی سے استثنیٰ دے دیا۔ سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ الزامات یکم مارچ 2023 کو پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہیں، جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجودگی کے دوران بدامنی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ عوامی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اس موقع پر خیبر پختونخواہ کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈز سمیت کم از کم 29 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
ایس ایچ او رانا ملک راشد احمد کی شکایت پر اسلام آباد کے انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (1997) کی دفعہ 7 کے ساتھ ساتھ پاکستان پینل کوڈ کی کئی دفعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں دفعات 148، 149، 186، 353، 380، 395، 427، 435، 440 اور 506 شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں جوڈیشل کمپلیکس کو نقصان پہنچانے میں مبینہ طور پر ملوث 18 افراد، پارکنگ ایریا میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے 22 ملزمان اور تصادم کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرنے کے الزام میں 19 دیگر افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔
