اسلام آباد، 2 اکتوبر 2025 (پی پی آئی): سینیٹ کی ایک کمیٹی نے گوادر شپ یارڈ کے اہم منصوبے کو درپیش زمین کے حصول پر تنازعات، مقامی آبادی کی شکایات اور ماحولیاتی خدشات سمیت دیگر اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے مداخلت کی ہے جن کی وجہ سے منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین سینیٹر محمد عبدالقادر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اس اسٹریٹجک بحری منصوبے میں تاخیر کا باعث بننے والی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز، سرکاری حکام اور گوادر سے ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ سمیت اہم مقامی نمائندوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزارتِ دفاعی پیداوار اور بلوچستان انتظامیہ کے حکام نے کمیٹی کو شپ یارڈ کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے مقامی آبادی کے تحفظات سے آگاہ کیا اور منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز اور فزیبلٹی رپورٹس بھی پیش کیں۔
طویل غور و خوض کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس گوادر اور کوئٹہ میں منعقد کیے جائیں گے۔ ان اجلاسوں میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سمیت تمام متعلقہ فریقین کو مدعو کیا جائے گا تاکہ باہمی مشاورت سے تمام تصفیہ طلب امور کا حل نکالا جا سکے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عبدالقادر نے منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت کو دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شپ یارڈ کے قیام سے خطے کے باشندوں اور ملک دونوں کے لیے اہم اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ اجلاس کا اختتام شکریہ کے کلمات پر ہوا۔
