اسلام آباد، 2 اکتوبر 2025 (پی پی آئی): مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ حسن ظفر نقوی نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ ایجنڈے کی کسی بھی ممکنہ توثیق کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو فلسطینی کاز سے سنگین دھوکہ اور بانیِ قوم، قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریے سے کھلی غداری قرار دیا ہے۔
مسلم رہنماؤں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے علامہ نقوی نے کہا کہ فلسطین کو تقسیم کرنے کی سازش ایک بڑی اسکیم کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا حتمی مقصد “عظیم تر اسرائیل” کا قیام ہے، جو ان کے بقول پورے خطے میں اسلامی حکومتوں کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
مذہبی شخصیت نے صدر ٹرمپ کی تجاویز کو محض اسرائیل کے قبضے کو مضبوط اور دائمی بنانے کا ایجنڈا قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کسی بھی صورت میں “غاصب” ریاست اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔
علامہ نقوی نے ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھرپور قوت کے ساتھ اس کی مخالفت کریں۔ انہوں نے دہرایا کہ پاکستان کا بنیادی نظریہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت کرنے والے کو قوم کے اصولوں کا “مجرم” تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی عوام کا دوٹوک مؤقف ایک مکمل آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس (یروشلم) ہو۔ دو ریاستی حل یا دیگر نام نہاد امن منصوبوں سمیت کسی بھی متبادل تجویز کو “دھوکہ” اور “فراڈ” کہہ کر مسترد کیا جاتا ہے۔
اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے علامہ نقوی نے اعلان کیا کہ “پاکستان کی مقدس سرزمین پر اسرائیل کے حامیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں” اور اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ “دریا سے لے کر سمندر تک” تمام سرزمین پر فلسطینیوں کا حق ہے۔
