کراچی، 15 دسمبر 2025 (پی پی آئی): گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پولیو کے خاتمے کو قومی وقار سے جڑا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں یہ بیماری اب بھی موجود ہے۔ ان کے یہ ریمارکس ہفتہ بھر کی قومی پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر سامنے آئے۔
گورنر نے پیر کے روز 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی حفاظتی مہم کے دوران عوامی تعاون کی پرزور اپیل کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس “خوفناک بیماری” کا خاتمہ ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے اور والدین و سرپرستوں سے گزارش کی کہ وہ پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو کے ضروری قطرے پلوانا یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔
جناب ٹیسوری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وائرس کے خلاف کامیابی عوام، حکومت اور متعلقہ اداروں کی متحدہ کوششوں پر منحصر ہے۔
انہوں نے پولیو ورکرز، جو اکثر مشکل حالات میں گھر گھر جا کر ویکسین پلاتے ہیں، کو “قوم کے حقیقی محسن” قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی اور عوام کے فرض پر زور دیا کہ وہ ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
ممکنہ غلط معلومات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، گورنر سندھ نے شہریوں سے کسی بھی قسم کی افواہوں کو نظر انداز کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ پولیو کے قطرے محفوظ اور موثر دونوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قطرے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کا واحد طریقہ ہیں۔
گورنر نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ “آئیے عہد کریں کہ ہم مل کر پولیو سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلیں گے اور اس قومی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے”۔ انہوں نے اس مہم کو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم کوشش قرار دیا۔
