کراچی، 20-جنوری-2026 (پی پی آئی): گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے تاجر برادری کے زخموں پر مرہم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وہ تاجر برادری کے نمائندوں کے ہمراہ گورنر ہاو ¿س میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک بڑا المیہ ہے اور اس موقع پر پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے متاثرہ تاجروں کی عملی مدد ہونی چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ میئر کراچی کو خط لکھیں گے تاکہ پارکنگ پلازہ میں متاثرہ تاجروں کو عارضی طور پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جا سکے۔
گورنر سندھ نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے اپیل کی کہ وہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ مل کر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مو ¿ثر کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ کے صدر سے بھی بات ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ معاملات کس طرح چل رہے تھے۔
کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ وہ وزیراعظم پاکستان سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ کراچی آئیں اور وفاقی سطح پر فنڈز کے حصول کے لیے بات کریں۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے معاوضے کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
گورنر سندھ نے پاک نیوی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک نیوی کے اہلکار 20 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچے اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر 70 فیصد ریونیو دیتا ہے، پھر بھی ہمیں بار بار دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جذبے کی کوئی کمی نہیں، خود دیکھا کہ تمام اداروں کے افسران اور اہلکار دل سے کام کر رہے تھے۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار کی بھی تعریف کی جنہوں نے اسمبلی میں چار گھنٹے اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔
اس موقع پر کے سی سی آئی کے سابق صدر جاوید بلوانی نے گورنر سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ ہر معاملے میں آگے آتے ہیں اور سانحہ گل پلازہ میں بھی سب سے پہلے موقع پر پہنچے۔ رکن قومی اسمبلی ارشد وہرہ نے کہا کہ گورنر سندھ کا یہ آئینی کام نہیں تھا، اس کے باوجود وہ متاثرین کے ساتھ بیٹھے اور ان کی داد رسی کی۔
مولانا بشیر فاروقی نے تجویز دی کہ کروڑوں روپے مالیت کا ملبہ سرکاری خالی پلاٹ پر منتقل کیا جائے اور گل پلازہ کے ملبے کو فروخت کر کے اس کی رقم متاثرین میں تقسیم کی جائے۔
پریس کانفرنس میں کے سی سی آئی کے سابق صدر جاوید بلوانی، انجم نثار، رفیق پردیسی، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، رکن قومی اسمبلی ارشد وہرہ، رکن سندھ اسمبلی عبدالمعز، طحہ، عامر صدیقی، مولانا بشیر فاروقی، ظفر عباس اور دیگر بھی موجود تھے۔
