کراچی، 3 فروری 2026 (پی پی آئی): میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں تیموریہ لائبریری کی بحالی کے منصوبے کا افتتاح کردیا، یہ منصوبہ ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جامن دروان، ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی، منتخب نمائندے اور دیگر بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر نے کہا کہ تعلیمی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے لائبریریوں کی بحالی عوامی خدمت کے اقدامات کی ایک بہترین مثال ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تیموریہ لائبریری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے جو طلباء اور علم کے متلاشی شہریوں کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرے گی اور مستقبل کے معماروں کے لئے مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لائبریریوں کی تزئین و آرائش اور بحالی کراچی میں علم و ادب کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ تعلیمی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا اور مجموعی شہری ترقی بلدیاتی اداروں کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں تیموریہ لائبریری خستہ حالی کا شکار تھی، اگرچہ سینکڑوں طلباء یہاں امتحانات کی تیاری کے لئے آتے تھے، لیکن بیٹھنے اور مطالعہ کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں تھیں، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ڈاکٹر عاصم حسین کے تعاون سے یہ منصوبہ مکمل ہوا اور لائبریری کو ایک بار پھر عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے۔
میئر نے کہا کہ لائبریری کے اطراف سیوریج کی صورتحال خراب تھی، جس پر متعلقہ افسران کو فوری طور پر طلب کیا گیا، انہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ غفلت برتنے والے کسی بھی افسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، انہوں نے زور دیا کہ الزام تراشی کے بجائے اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنا چاہیے، کیونکہ شہری صرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سال کراچی کے لئے ترقی کا سال ثابت ہوگا اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن شہر پر ایک خطیر رقم خرچ کرے گی، میئر نے بتایا کہ شہر کے مختلف اضلاع میں 26 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی منظوری حاصل کرلی گئی ہے، جنہیں ساڑھے پانچ ارب روپے کی لاگت سے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لئے ان سڑکوں پر کام رواں ماہ کے آخر تک شروع ہوجائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جن بڑی سڑکوں کو بہتر بنایا جائے گا ان میں یونیورسٹی روڈ، اولڈ سٹی کے مختلف روٹس، ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ اور مرزا آدم خان روڈ شامل ہیں، مرزا آدم خان روڈ لیاری کے پیچھے سے گارڈن کی طرف جاتی ہے اور لیاری ایکسپریس وے سے منسلک ہوتی ہے، اسے دھوبی گھاٹ روڈ بھی کہا جاتا ہے، ان سڑکوں کی بحالی سے ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
میئر نے مزید کہا کہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے تقریباً 4 ارب روپے کی تخمینہ لاگت سے چار کراچی کوریڈورز بھی تعمیر کئے جارہے ہیں، پہلے مرحلے میں حبیب یونیورسٹی سے پہلوان گوٹھ تک کوریڈور تعمیر کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں شاہراہ فیصل سے ناتھا خان تک کوریڈور بنایا جائے گا، جو گلستان جوہر جانے والوں کے لئے متبادل راستے کا کام دے گا، اس منصوبے کے ٹینڈرز مکمل ہوچکے ہیں اور آئندہ چند روز میں تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ راشد منہاس روڈ اور سر شاہ سلیمان روڈ پر بھی کوریڈورز کی تعمیر شامل ہے، جس سے شہر میں ٹریفک کی نقل و حرکت میں مزید آسانی ہوگی، تجاوزات کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں سڑکوں اور نالوں پر غیر قانونی قبضوں نے ترقیاتی کاموں کو متاثر کیا ہے، تاہم کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
میئر نے کہا کہ کورنگی کازوے پل کو عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے، جبکہ مرغی خانہ پل مارچ تک ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا، جس سے لانڈھی اور قائد آباد کے رہائشیوں کو بڑی राहत ملے گی، اسی طرح کیٹل کالونی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پل پر کام فروری تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنا اور شہریوں کے مسائل حل کرنا ان کے انتخابی منشور کا مرکز ہے اور دستیاب وسائل عوام پر خرچ کرنا ان کی پالیسی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خدمت کا فلسفہ ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت کراچی کی ترقی اور بہتری کے لئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو ذاتی جاگیر سمجھنا ناقابل قبول ہے، انہوں نے مزید کہا کہ چند سو افراد کے احتجاج کے ذریعے لاکھوں شہریوں کے لئے مشکلات پیدا کرنا عوام دشمن رویہ ہے، انہوں نے کہا کہ مختلف ٹاؤنز میں اختیار ہونے کے باوجود عملی کام کے بجائے احتجاجی سیاست کی جارہی ہے، انہوں نے گل پلازہ سانحے کے بعد وفاقی حکام کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں اور انہیں شہر کی بہتری کے لئے شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے گا، انہوں نے آخر میں کہا کہ کراچی سب کا ہے اور اس کی خدمت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
