اسلام آباد، 22 فروری 2026 (پی پی آئی): پاکستان نے پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک انتہائی درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنہ الخوارج اور اس کے ذیلی گروہوں، نیز داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ کارروائی پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد کی گئی، جن میں اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں حملے شامل ہیں، جبکہ ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں ایک اور حملہ بھی کیا گیا۔
پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایات پر کیں۔
پاکستان نے عبوری افغان حکومت سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو خوارج اور دیگر دہشت گرد عناصر کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ اپنی یقین دہانیوں پر عمل کرے اور افغان سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
