کراچی، 14 اپریل 2026(پی پی آئی) جامعہ کراچی اور سندھ فوڈ اتھارٹی کے اشتراک سے پاکستان میں خوردنی تیل میں مضر صحت ٹرانس فیٹس کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں متعلقہ اداروں، ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق سیمینار میں بناسپتی گھی بنانے والی کمپنیوں کے نمائندے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، تمام صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے نمائندگان، جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس کے ماہرین اور سندھ فوڈ اتھارٹی کے افسران شریک ہوئے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ کھانے کے تیل کو زیادہ محفوظ اور صحت مند بنانے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مضر صحت ٹرانس فیٹس دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں اور حکومت ان کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق خوردنی تیل کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے لیبارٹری نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے جبکہ سندھ فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ ادارے اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تیل بنانے والی صنعت کو محفوظ اور بہتر طریقہ کار فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔
مخدوم محبوب الزمان نے مزید کہا کہ صنعت کو نئے اصولوں پر عملدرآمد کیلئے رہنمائی اور سہولت دی جا رہی ہے جبکہ جامعہ کراچی اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کا تعاون اس عمل میں قابل قدر ہے۔
