اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی ، پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج اور انسٹیٹیوٹ آف فنانشل میںکیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط

مرحوم محمد ناصر صحافتی برادری کے ایک فعال، باوقار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل فرد تھے:مسلم لیگ فنکشنل سندھ

منشیات فروشوں کی سہولیت کاری پر ضلع بدین کے 6 پولیس اہلکار برطرف

منشیات فروشوں کی سہولیت کاری پر ضلع بدین کے 6 پولیس اہلکار برطرف

میرپورخاص سیٹلائٹ ٹاؤن میں بجلی چوروں کیخلاف کارروائی ، کنکشن ،بقایا جات وصول

تربت میں جشن بہاراں فیسٹیول منعقد ،، سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ شریک

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خوردنی تیل میں ٹرانس فیٹس کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات شروع، جامعہ کراچی میں سیمینار

کراچی، 14 اپریل 2026(پی پی آئی) جامعہ کراچی اور سندھ فوڈ اتھارٹی کے اشتراک سے پاکستان میں خوردنی تیل میں مضر صحت ٹرانس فیٹس کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں متعلقہ اداروں، ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق سیمینار میں بناسپتی گھی بنانے والی کمپنیوں کے نمائندے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، تمام صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے نمائندگان، جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس کے ماہرین اور سندھ فوڈ اتھارٹی کے افسران شریک ہوئے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ کھانے کے تیل کو زیادہ محفوظ اور صحت مند بنانے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مضر صحت ٹرانس فیٹس دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں اور حکومت ان کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق خوردنی تیل کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے لیبارٹری نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے جبکہ سندھ فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ ادارے اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل بنانے والی صنعت کو محفوظ اور بہتر طریقہ کار فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔

مخدوم محبوب الزمان نے مزید کہا کہ صنعت کو نئے اصولوں پر عملدرآمد کیلئے رہنمائی اور سہولت دی جا رہی ہے جبکہ جامعہ کراچی اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کا تعاون اس عمل میں قابل قدر ہے۔