ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی میں منشیات کے بڑے اڈوں کے خاتمے میں پولیس ناکام شہر قائد میں 60 فی صد اسٹریٹ کرائمز میں نشے کے عادی افرادملوث

کراچی (پی پی آئی)شہر قائد میں 60 فی صد اسٹریٹ کرائمز کا تعلق نشے کے عادی افراد سے ہے۔کراچی میں بڑھتی منشیات فروشی اسٹریٹ کرائمز میں اضافے کا بھی سبب بن رہی ہے، نشے کے عادی افراد اپنی لت پوری کرنے کے لیے چوری ڈکیتی کی وارداتیں کرتے ہیں۔آئی جی سندھ بھی 60 فی صد اسٹریٹ کرائمز کا ذمہ دار نشے کے عادی افراد کو قرار دے چکے ہیں لیکن کراچی میں منشیات کے بڑے اڈوں کے خاتمے میں پولیس ناکام نظر آ رہی ہے۔پی پی آئی کے مطابق کراچی میں عادی جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد دراصل نشے کی بھی عادی ہوتی ہے، شہر میں منشیات کے اڈے اور اسٹریٹ کرائمز یکساں طورپر بڑھ رہے ہیں۔شہر قائد میں اس وقت منگھوپیر، مشکی پاڑہ، بلدیہ داؤد گوٹھ، اورنگی فقیر کالونی، مدینہ کالونی، پرانی سبزی منڈی اور ریڑھی گوٹھ کے علاقوں میں کھلے عام منشیات فروخت ہو رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں منشیات کی سپلائی ختم کرنے کے لیے پولیس منشیات فروشوں کے خلاف حقیقی انداز میں ایکشن کرے۔