پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہماری قومی ترجیح ایکسپورٹ نہیں رہی، احسن اقبال حکومت میں آئے تو 550 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملا مستقبل ایکسپورٹ 32 بلین سے 100 بلین ڈالر پرہے

اسلام آباد (پی پی آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ہماری قومی ترجیح ایکسپورٹ کی طرف نہیں رہی۔تفصیلات کے مطابق 117ویں این ایم سی کے افسران نے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کا تربیتی دورہ کیا اس موقع پروفیسر احسن اقبال نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سول سرونٹس کی شفاف ترین میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سول سروس دنیا میں پیشہ وارانہ مہارت کی حامل تصور ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ افسران کا انفرادی میرٹ نظام کی اجتماعی کارکردگی پر اثرانداز کیوں نہیں ہو پاتا۔احسن اقبال نے کہا کہ دنیا ایک تلاطم اور بے یقینی سے گزر رہی ہے، ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن، عالمی تنازعات، آبادی اور موسمیاتی تبدیلی بڑی تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ہمیں انتظامی ڈھانچہ میں مستقبل کے چیلنجز سے نپٹنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے، جب حکومت میں آئے تو 550 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات پر انحصار ہی سے دنیا میں ترقی ممکن ہے، پاکستان کا مستقبل اس بات پر ہے کہ پاکستان اپنی ایکسپورٹ 32 بلین ڈالر سے 100 بلین ڈالر کتنے سال میں کرتا ہے، چین کے ساتھ تجارت کا حجم 32 بلین ڈالر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہماری قومی ترجیح ایکسپورٹ کی طرف نہیں رہی، وقت کی ضرورت ہے کہ نجی سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی صنعتوں کو مسابقتی اور دنیا کے تقاضوں کے مطابق بناکر ہی ایکسپورٹ کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے، افسران پیشہ وارانہ امور نمٹاتے ہوئے معاشی مینیجر کی طرز پر سوچیں، ٹیکس وصولی، سرمایہ کاری، برآمدات اور بیرونی ترسیلات کے فروغ میں ہمارا معاشی علاج ہے۔