جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دا کشمیر فائلز’کے خلاف سرعام بولنا آسان نہیں تھا، اسرائیلی فلم ساز ایسے ملک میں جہاں اظہارکی صلاحیت ختم ہو، کسی نہ کسی کو تو بولنا ہی تھا

بیت المقدس(پی پی آئی) اسرائیلی فلم ساز ناداف لاپیڈجنہوں نیبین الاقوامی فلم فیسٹیول میں متنازعہ فلم‘دا کشمیر فائلز’کو پراپیگنڈہ اور بے ہودہ قراردیا تھا۔ ایک اسرائیلی اخبار کو انٹرویو میں کہاہے کہ’دا کشمیر فائلز’کے خلاف سرعام بولنا آسان نہ تھا۔ اسرائیلی فلم ساز ناداف لاپیڈ نے مزید کہا کہ متنازعہ فلم کے بارے میں اس طرح کا بیان دینا آسان نہیں تھاکیونکہ وہ ایک تو مہمان تھے دوسرے جیوری کے صدربھی تھے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ تقریب میزبان ملک کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل تھی ہے، جہاں ہر کوئی حکومت کی تعریف کررہاتھا۔تاہم انہوں نے کہاکہ کسی نہ کسی نے تو سچ سامنے لانا ہی تھا۔ اسرائیلی فلم ساز نے مزید کہا کہ “ہال میں ہزاروں افراد موجود تھے، جن میں فلمی ستارے، سرکاری عہدیداراور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں جو حکومت کی تعریف سننا چاہتی تھیں لیکن “ایسے ملک میں جہاں اپنے دل کی بات یا حقیقت کا اظہار کرنے کی صلاحیت تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہو، کسی نہ کسی کو تو بولنا ہی تھا۔”واضح رہے کہ ناداف لاپیڈ نے فلمی میلے کے اختتامی تقریب میں اپنی تقریر میں متنازعہ فلم‘دا کشمیر فائلز’کو نمائش میں شامل کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے‘پروپیگنڈا’اور بیہودہ فلم قرار دیا تھا۔ جس وقت وہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے ہال میں بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر اور ریاستی وزیر اعلی کے علاوہ متعدد اہم شخصیات موجود تھیں.