شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچ الیکٹیبلز کی شمولیت سے جمعیت علماء اسلام کی بلوچستان میں پوزیشن مستحکم خیبر پی کے میں آئیڈیل صورتِ حال نہیں اسلئے ہدف ہوم گراونڈ کی بجائے بلوچستان ماضی میں جے یو آئی کا مینڈیٹ پشتون بیلٹ سے رہا، اس بار صورتحال یکسر مختلف

کوئٹہ(پی پی آئی)جمعیت علماء اسلام میں بلوچستان کی تین سے چار اہم شخصیات کی شمولیت سے لگتاہے کہ وہاں اگلی حکومت جے یو آئی کی ہوگی، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کیلئے خیبر پختون خواہ میں آئیڈیل صورتِ حال نہیں اسی لئے اس بار مولانا فضل الرحمان کا ہدف ہوم گراونڈ کی بجائے بلوچستان ہے؟۔پی پی آئی کے مطابق 1970 کے بعد 2013 اور 2018 دو ایسے انتخابات گزرے ہیں کہ جب جمعیت بلوچستان حکومت کا حصہ نہیں رہی، ورنہ باقی تمام ادوار میں جمعیت صوبے کی پارلیمانی سیاست کی ایک اہم حقیقت کے طور پر حکومت کا حصہ رہی ہے۔تاہم 1970 سے آج تک جمعیت بلوچستان میں اپنا وزیر اعلیٰ لانے میں کامیاب نہ ہو سکی، جس کی بڑی وجہ بلوچستان میں جمعیت کا مینڈیٹ زیادہ تر پشتون علاقوں سے سامنے آتا ہے۔لیکن اب جمعیت بلوچ علاقوں سے الیکٹیبلز تصور کئے جانے والے نواب اسلم رئیسانی، ظفر زہری اور امان اللہ نوتیزئی کی جمعیت میں شمولیت سے یہ گمان کیا جارہا ہے کہ جمعیت اب وزارت اعلیٰ کی مسند کی دوڑ میں کسی دوسری جماعت سے پیچھے نہیں رہے گی۔پی پی آئی کے مطابق اس وقت جمعیت کے اراکین کی تعداد گیارہ ہے، سیاسی حلقے اس میں بلوچ علاقوں سے چار پانچ نشستوں کے اضافے کی صورت میں جمعیت کو اگلی حکومت بناتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔