اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیرمیں 10برس کے دوران 418مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کمپنیوں کو 40ہزارکروڑ کا نقصان،4لاکھ96ہزار سے زائدبے روزگار

سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 10برس کے دوران مجموعی طورپر 418مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئی ہیں۔انٹر نیٹ شٹ ڈاؤن ان نامی عالمی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں 4اگست 2019کی شام کوسب سے طویل عرصے کیلئے انٹرنیٹ سروسز کو552 دنوں کے لیے بند کر دیا گیا تھاجب مودی حکومت نے اگلے دن مقبوضہ کشمیر کو دفعہ 370کے تحت حاصل خصوصی کو منسوخ کر دیاتھا۔مقبوضہ کشمیرمیں سب سے زیادہ 175مرتبہ ضلع پلوامہ میں انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں۔ اگست 2019میں لداخ کے ضلع کارگل میں 145دنوں کیلئے انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ اسلام آبادمیں 2012سے اب تک 142 مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں جو کہ دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طورپر 132مرتبہ انٹرنیٹ بند کیاگیا۔ شٹ ڈاؤن ان نامی عالمی تنظیم نے یہ اعدادوشمار خبروں یا انٹرنیٹ پر دستیاب متعلقہ ریاستی حکومتوں کی طرف سے جاری کئے گئے احکامات کے ذریعے اکٹھے کئے ہیں۔تمام اعداوشمار کی سخت جانچ پڑتال کی گئی اور انٹرنیٹ کی معطلی سے متعلق حق اطلاعات کے تحت حاصل ہونے والی معلومات بھی ان اعدادوشمار میں شامل کی گئی ہیں۔ معاشی طور پر بھی جموں و کشمیر سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے، جہاں 18 ماہ سے زیادہ عرصے تک انٹرنیٹ سروسز معطل رکھی گئیں۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 سے جولائی 2020تک تجارتی کمپنیوں کو 40ہزارکروڑ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔اس عرصے کے دوران انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے سیاحت اور موبائل سروسز کے شعبے سب سے بری طرح متاثر ہوئے اور 4لاکھ96ہزار سے زائد افراد بے روزگارہو گئے۔