دہشت گردوں نے حملوں میں جدید تھرمل سائٹس گن استعمال کی
اس کی مدد سے انسانی جسم کا درجہ حرارت معلوم کر کے حملہ ہوتا ہے
پشاور (پی پی آئی)خیبرپختونخوا میں انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے بعد ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق پشاور میں منگل کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری نے بتایا کہ ’دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے سافٹ اور ہارڈ ٹارگٹ رکھے گئے ہیں کچھ علاقوں میں طاقت کا استعمال کیا جائے گا، جبکہ کچھ جگہوں پر انٹلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔‘’جرائم پیشہ افراد دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا بھی مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔‘آئی جی پولیس خیبرپختونخوا کے مطابق ’مردان، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردوں نے حملوں کے دوران جدید تھرمل سائٹس گن کا استعمال کیا ہے جو کہ ہمارے لیے تشویش ناک ہے۔ تھرمل سائٹس ہتھیار کی مدد سے انسانی جسم کی درجہ حرارت معلوم کر کے حملہ کیا جاتا ہے۔‘ آئی جی معظم جاہ انصاری نے کہا کہ ’ہمیں اندیشہ ہے کہ افغانستان میں نیٹو کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس کا وہ استعمال کر رہے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’تھرمل سائٹس ہتھیار کی خریداری کے لیے صوبائی حکومت نے بھی منظوری دی ہے اس کی سپلائی جلد شروع ہوگی یہ اسلحہ پولیس حساس علاقوں میں استعمال کرکے دشمنوں کا مقابلہ کرے گی۔
