شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کنٹینرز کا مسئلہ تاحال حل نہ ہونا تشویشناک ہے، کاٹی 10 ہزار والے کنٹینر پر 15 ہزار ڈالر ڈیٹینشن لگ چکا، فراز الرحمان

کراچی (پی پی آئی) کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر فراز الرحمان نے اسٹیٹ بینک کی اجازت کے باوجود پورٹس پر کنٹینرز پھنسے ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے 2 جنوری سے چیپٹر 84، 85 اور 87 والے مال کے کنٹینرز ریلیز کرنے کا سرکلر جاری کیا تھا، تاہم اجازت کے باوجود آج تک کنٹینرز ریلیز نہ ہوئے جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ مسئلہ کا فوری حل نکالا جائے کیونکہ اگر ایک تاجر کو 10 ہزار ڈالر والے کنٹینر پر 15 ہزار ڈالر ڈیٹینشن کی مد میں جرمانہ لگیں گے تو کاروبار تباہ ہوجائے گا، جس کے سبب ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ اور اشیائے خوردو نوش ایک غریب اور عام آدمی کے پہنچ سے دور ہوجائے گی۔ فراز الرحمان نے کہا کہ تاجر صنعتکاروں، اشیاء کوردونوش اور خاص طور پر فرنیچر ایسو سی ایشن نے خریداروں سے تاخیر سے ادائیگی (ڈی اے) کے دستاویزات کی بنیاد پر کنٹینرز ریلیز کرانے کیلئے اجازت طلب کی تو حکومت وہ بھی نہیں دے رہی جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر کنٹینرز کی مالیت سے دوگنے جرمانے ادا کرنے کے متحمل نہیں۔ حکومت نے فوری طور پر کوئی اقدام نہ کیا تو بزنس کمیونٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ پورٹس پر مال رکھے خراب ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی الگ ہوگی کہ مال منگوا کر ادائیگی کرنے کے قابل نہیں۔ صدر کاٹی نے کہا کہ مرکزی بینک No Remittance Involved پر ایل سیز جاری کر سکتا ہے جس میں زرمبادلہ خصوصاً ڈالر باہر نہیں جائیں گے یا پھر حکومت ڈی اے پر کنٹینرز ریلیز کرے تاکہ تاجر پہلے سے ڈوبتا کاروبار چلا کر اپنی ساکھ بحال کر سکے۔ فراز الرحمان نے بتایا کہ امپورٹرز سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ دنیا بھر میں اب پاکستانی تاجروں کے آرڈرز منسوخ ہونا شروع ہو گئے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں ایکسپورٹرز اپنا مال بیچنا ختم کر دیں گے جو کہ امپورٹ پر منحصر ہونے کے باعث ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔ صدر کاٹی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری حل کیلئے اقدامات کرے۔