پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دہشتگردوں کو کون واپس لایا اور کس نے کہا تھا یہ جہادی پاکستان کے دوست ہیں؟: وزیر اعظم

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو 417 ارب روپے انسداد دہشت گردی کی مد میں دیئے گئے، خدا جانے وہ کہاں خرچ کئے گئے، کوئی نہیں جانتا، ان کا حساب دیا جائے کہ وہ کہاں گئے؟۔وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھارہا ہے، سوال یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو کون واپس لایا؟ کس طرح دوبارہ پاکستان کا امن خراب ہوا؟ کس نے کہا تھا یہ جہادی ہیں اور پاکستان کے دوست ہیں؟ کس نے کہا تھا ان لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے اور یہ ملک کی ترقی میں حصہ لیں گے۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر مناسب اقدامات نہ کیے تو دہشتگردی پاکستان میں پھیل جائے گی۔پشاور مسجد حملے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے بہادر اور غیور عوام کی ہمت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، پشاور حملے میں جانیں قربان کرنے والوں کو پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ 417 ارب روپے خاص طور پر انسداد دہشتگردی کے اقدامات کے لیے مختص تھے، خدا جانے اتنے بڑی رقم کہاں چلی گئی، 10 سال وہاں پی ٹی آئی کی حکومت رہی، آج وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں تو یہ 417 ارب روپے کہاں گئے؟ کہاں استعمال ہوئے؟
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’آپ کو 40 ارب سال کا مل رہا ہو تو پھر آپ کا یہ شکوہ بنتا نہیں ہے کہ ہمارے محکمہ انسداد دہشتگردی میں کمزوریاں ہیں یا ان کے پاس مطلوبہ سامان اور تربیت نہیں ہے، یہ سب باتیں ناقابل یقین ہیں، فنڈز نہ ملنے کا شکوہ کرنا حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔