پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اسلام آباد کی کچہری میں سکیورٹی انتظامات نامناسب

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)پشاور میں پولیس لائن پر خودکش حملے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھیجی گئی رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت کی ضلع کچہری کی سکیورٹی صورتحال کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کچہری کے واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور ایل ای ڈیز سب خراب ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس، سپیشل برانچ اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے تیار نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’عدالتوں، سائلین اور وکلا کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی اسلام آباد انتظامیہ اور چیف کمشنر کی ذمہ داری ہے تاہم یہ دونوں انتظامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2014 کے دہشت گرد حملے کے بعد ضلع کچہری میں رینجرز کی تعیناتی کی گئی لیکن کچھ عرصے کے بعد سیشن ججز کو بغیر بتائے رینجر کی تعیناتی واپس لے لی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچہری کے انٹری پوائنٹس پر واک تھرو گیٹ نصب خراب ہیں۔ ’کچہری کی حدود میں نصب تقریباً تمام سی سی سی ٹی وی کیمرے ٹھیک کام نہیں کر رہے۔ سی سی ٹی وی روم میں پڑی ایل ای ڈیز اور یو پی ایس ایک لمبے عرصے سے خراب پڑے ہیں اور بار بار کی درخواست کے باوجود ڈپٹی کمشنر آفس سکیورٹی انتظامات اور کیمرے نصب کرنے میں ناکام رہا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیشل برانچ کے اہلکار کچہری کے انٹری پوائنٹس پر تعینات تھے، انھیں واپس لے لیا گیا جبکہ عدالت نے سپیشل برانچ کے اہلکاروں کی تعیناتی سے متعلق تحریری کہا ’لیکن ان کا جواب نفی میں تھا۔