مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیرمیں آمریت اورغیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے:کل جماعتی حریت کانفرنس

سری نگر(پی پی آ ئی)بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی قابض فورسزکی طرف سے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں تیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیاجاسکتا۔کشمیرمیڈیاکے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج اور پولیس غیر کشمیری بیوروکریٹس کے ہمراہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر جمہوری طریقے سے حکمرانی کر رہی ہے اور اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کیلئے آواز بلند کرنے پر کشمیریوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔بیان میں کہاگیا کہ وحشیانہ فوجی طاقت کے استعمال کے باوجودکشمیری کامورال بلند ہے اور وہ بہادری اور جرات مندی کے ساتھ بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی کے مقدس مقصد کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 10لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوجیوں کی مقبوضہ علاقے میں تعیناتی بین الاقوامی قانون اور 1948کے اقوام متحدہ کے نسانی حقوق کے چارٹر کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ محصور کشمیریوں تک رسائی دینے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ از خود مقبوضہ علاقے کی موجودہ سنگین صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما غلام احمد گلزار اوردیگر حریت رہنماؤں بشمول غلام محمد خان سوپوری، زمرودہ حبیب، یاسمین راجہ، فریدہ بہن جی، ڈاکٹر مصعب نے گروپ بیس کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے زیر میزبانی گروپ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیں کیونکہ بھارت اسے مقبوضہ علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کو چھپانے اور جموں و کشمیر کی حقیقی زمینی صورتحال کے بارے میں دنیا کو گمراہ کرنے کیلئے استعمال کریگا۔