عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دنیا کی 10فیصد آباد ی اسپیشل افراد پر مشتمل ہے صدف جان

کراچی (اسٹاف رپورٹر)محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ آف سندھ اور پاکستان ویل چیئر کرکٹ کونسل کے اشتراک سے معذور افراد کیلئے سماجی شمولیت کے راستے تلاش کرنے اور ان میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے سیمینار منعقد کیا گیا جس کی مہمان خصوصی روٹری کلب آف کراچی سٹی کی ووکیشنل ڈائریکٹر صدف جان تھیں جبکہ اس موقع پر ایس آر مینیجر کوآرڈینٹر پیپسی گروپ محمد اخلاق،روٹری کلب آف کراچی سٹی کے چارٹر پریذیڈینٹ سید نسیم شاہ،سی ای او فضل ربی الیکٹرک کمپنی راجہ افتخار احمد،بورڈ ممبر ایس ایم ای فاؤنڈیشن کامران اللہ خان،پریذیڈنٹ ایس ایم ای فاؤنڈیشن ولی اللہ خان،سینئر وائس پریذیڈینٹ اورسابق جنرل سیکریٹری کلچر ونگ پاکستان پیپلز پارٹی منظور حسین لاریک،چیئرمین کبڈی ایسو سی ایشن سندھ اور ایڈ منسٹریشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ غلام یاسین،پی پی پی کے رہنما ابرار احمد علوی،سی ای او بلڈنگ مٹریل مال(بی ایم ایم) پروجیکٹ یوسف افتخار احمد،پاکستان پیپلز پارٹی لیبر ونگ کے رفیق قریشی،عیسیٰ قریشی،نعیم قریشی اور دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے روٹری کلب آف کراچی سٹی کی ووکیشنل ڈائریکٹر صدف جان نے کہاکہ دنیا کی 10فیصد آباد ی اسپیشل افراد پر مشتمل ہے جنہیں تعلیم،صحت،ملازمت اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اسپیشل افرادکیلئے حکومت تعلیم اور روز گار فراہم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے جبکہ مختلف سماجی تنظیمیں اور روٹری انٹرنیشنل بھی ایسے اسپیشل افراد جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا پورا پورا موقع فراہم کررہے ہیں جس سے ان میں خود اعتمادی آئے گی اور وہ نارمل افراد کی طرح کھیلوں کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں بھر پور طریقے سے حصہ لے سکیں گے۔