خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دنیا کی 10فیصد آباد ی اسپیشل افراد پر مشتمل ہے صدف جان

کراچی (اسٹاف رپورٹر)محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ آف سندھ اور پاکستان ویل چیئر کرکٹ کونسل کے اشتراک سے معذور افراد کیلئے سماجی شمولیت کے راستے تلاش کرنے اور ان میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے سیمینار منعقد کیا گیا جس کی مہمان خصوصی روٹری کلب آف کراچی سٹی کی ووکیشنل ڈائریکٹر صدف جان تھیں جبکہ اس موقع پر ایس آر مینیجر کوآرڈینٹر پیپسی گروپ محمد اخلاق،روٹری کلب آف کراچی سٹی کے چارٹر پریذیڈینٹ سید نسیم شاہ،سی ای او فضل ربی الیکٹرک کمپنی راجہ افتخار احمد،بورڈ ممبر ایس ایم ای فاؤنڈیشن کامران اللہ خان،پریذیڈنٹ ایس ایم ای فاؤنڈیشن ولی اللہ خان،سینئر وائس پریذیڈینٹ اورسابق جنرل سیکریٹری کلچر ونگ پاکستان پیپلز پارٹی منظور حسین لاریک،چیئرمین کبڈی ایسو سی ایشن سندھ اور ایڈ منسٹریشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ غلام یاسین،پی پی پی کے رہنما ابرار احمد علوی،سی ای او بلڈنگ مٹریل مال(بی ایم ایم) پروجیکٹ یوسف افتخار احمد،پاکستان پیپلز پارٹی لیبر ونگ کے رفیق قریشی،عیسیٰ قریشی،نعیم قریشی اور دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے روٹری کلب آف کراچی سٹی کی ووکیشنل ڈائریکٹر صدف جان نے کہاکہ دنیا کی 10فیصد آباد ی اسپیشل افراد پر مشتمل ہے جنہیں تعلیم،صحت،ملازمت اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اسپیشل افرادکیلئے حکومت تعلیم اور روز گار فراہم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے جبکہ مختلف سماجی تنظیمیں اور روٹری انٹرنیشنل بھی ایسے اسپیشل افراد جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا پورا پورا موقع فراہم کررہے ہیں جس سے ان میں خود اعتمادی آئے گی اور وہ نارمل افراد کی طرح کھیلوں کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں بھر پور طریقے سے حصہ لے سکیں گے۔