اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

شنگھائی تھرکول سے بجلی کی پیداوار شروع، آئی ایم ایف کیساتھ معاملات طے پا گئے: خرم دستگیر

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ شنگھائی تھرکول منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے سے نوازشریف اور بے نظیر کے خواب کی تعبیر ہوگئی ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ شنگھائی تھرکول کے منصوبے نے بجلی کی پیداوار شروع کردی ہے، یہ منصوبہ 1320میگاواٹ کا ہے، تھل نووا کا 330 میگاواٹ کا منصوبہ بھی مکمل ہوگیا ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ نواز شریف اور بے نظیر کے خواب کی تعبیر ہو گئی، ایک سال میں تھر سے ایک ہزار 980 میگا واٹ بجلی پیدا کی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں اور یہاں سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے جبکہ مزید 100میگا واٹ بجلی درآمد کے لیے ایران گوادر ترسیلی لائن مکمل ہوگئی ہے۔وفاقی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، شہبازشریف کی قیادت میں پی ڈی ایم تیزی سے کام کر رہی ہے، سستی بجلی کو سسٹم میں شامل کیا جارہا ہے، تھر کے معاملے پر تمام شکوک و شہبات دور ہو گئے ہیں۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے اس مالی سال کے تمام معاملات پر معاہدہ ہوچکا ہے، اگلے مالی سال کے بارے میں وہ ہم سے کچھ گارنٹی چاہ رہے ہیں، بجلی کا بنیادی ٹیرف جس میں آخری بار پچھلے موسم گرما میں اضافہ کیا گیا تھا، بنیادی ٹیرف میں کسی بھی سلیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی، سردیوں میں جو لوڈشیڈنگ ہوئی ہے وہ بچت کا منصوبہ ہے، ہمارے پاس بجلی بنانے کے وافر ذرائع اور ایندھن موجود ہے، لیکن پچھلے موسم گرما میں ایک تلخ تجربہ ہوا تھا، ہمیں صارفین کے بلوں کا خیال ہے، ان کو کم کرنے کا بھی خیال ہے۔