جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تنازعہ کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی سے جنوبی ایشیا میں امن کو خطرات لاحق ہیں: حریت کانفرنس عالمی برادری اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے بھارت پر دباؤڈالے

سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی نے پورے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس بے بنیاد دعوے کی شدید مذمت کی کہ آزاد کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کو عالمی ادارے کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کرنا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جارحانہ بیان بازی علاقائی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے، آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے ہندوتوا گورنر کا بے بنیاد دعویٰ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ بھارت علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منوج سنہا کے بے بنیاد دعوے نہ تو تاریخی حقائق اور نہ ہی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی فوج اور ہندوتوارہنما?ں کے غیر ذمہ دارانہ تبصرے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑکا رہے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ بھارت حق خودارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو کچلنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فسطائی نریندر مودی کے جارحانہ اور غیر جمہوری اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ تاہم مودی کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں مستقل امن تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل سے وابستہ ہے۔ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے بھارت پر دباو ڈالے.